اسلام آباد۔ اکیڈمی ادبیات کے زیراہتمام قائد اعظم اور قومی زبان کے عنوان سے مجلسِ مذاکرہ

اسلام آباد۔ اکیڈمی ادبیات کے زیراہتمام قائد اعظم اور قومی زبان کے عنوان سے مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک نفاذ اردو پاکستان کے مرکزی صدر عطاءالرحمن چوہان نے کہا کہ قائد اعظم رحمةاللہ علیہ نے پاکستان بننے سے بہت پہلے عوامی زبان کا مسئلہ حل کر دیا تھا کہ ہم پاکستان کے فوراً بعد اپنے دستور ساز اسمبلی سے منظوری دیکھیں اردو پاکستان کی قومی زبان بنا دیا تھا انہوں نے کہا کہ قائد اعظم رحمة اللہ علیہ نے مشرقی پاکستان میں میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جو بہت واضح پیغام دیا تھا وہ بھی ریکارڈ میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سارے دساتیر میں قومی زبان اردو کا ذکر موجود ہے اور ہمارے موجودہ دستور 1973میں بہت واضح الفاظ میں قومی زبان کے نفاذ کا معاملہ کرلیا گیا ہے۔ عطاء الرحمن چوہان نے کہا کہ حکمرانوں کی طرف سے اردو کو نظرانداز کرنے پر عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور عدلیہ نے تجوید سماعت کے بعد ستمبر 2015 میں ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا۔ اس کے باوجود پاکستان کے حکمران اور اشرافیہ قومی زبان کو اس کا جائز مقام دینے پر تیار نہیں ہیں۔ عطاء الرحمن چوہان نے کہا کہ پاکستان کی اشرافیہ دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہی ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کیونکہ نسلیں بھی پاکستان کے وسائل پر قابض رہی ہیں اور عوام کے بچے مقتدر کلب کا حصہ نہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہی پالیسی پر عمل درآمد کے بجائے پالیسی ساز بنی ہوئی ہے اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ مار رہی ہے ۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ تحریک نفاذ اردو پاکستان نے دستور پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی پاسداری کے لیے جدوجہد شروع کردی ہے اور اس پر عمل درآمد تک نہ خود سکون سے بیٹھیں گے اور نہ اشرافیہ کو سکون لینے دیں گے، کیونکہ انگریزی کی چھری سے عوام کے بچوں کو تعلیمی اور معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔ جسے کسی طور برداشت نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اردو ہماری پہچان اور ہماری صدیوں پرانی تہذیب کی وارث ہے۔ ہم قومی زبان کے ساتھ ساتھ دیگر پاکستانی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم علاقائی زبانوں میں دی جائے اور انگریزی کا ناجائز تسلط ختم کرکے قومی زبان کو نافذ کیاجائے.